Sahaba e kiraam ki haqqaniyat free pdf
Discover a rich collection of authentic Islamic books available for free download. Explore Tafaseer, Hadith, Seerat, Darse Nizami syllabus, Urdu Shuruhat, Islamic History, Fazail, Naat collections, and much more — all in one place for students, researchers, and seekers of knowledge. and Islamic and motivational English Books.
مصنف: علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ
مراۃ المناجیح برصغیر کی اُن عظیم تفاسیرِ حدیث میں سے ایک ہے جس نے عام مسلمانوں، علماء، طلبہ، خطباء اور محققین سبھی کو یکساں فائدہ پہنچایا۔ یہ شرح بنیادی طور پر مشکوٰۃ المصابیح کی تشریح ہے، جو کہ احادیثِ نبویہ کا ایک جامع اور معتبر مجموعہ ہے۔
علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے نہایت عالمانہ، سادہ، دل نشین اور حکیمانہ انداز میں اس کی شرح لکھی جس نے اسے برصغیر کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شروح میں شامل کر دیا۔
مشکوٰۃ المصابیح احادیثِ نبویہ کا ایک معروف مجموعہ ہے جس میں تقریباً چھ ہزار احادیث جمع کی گئی ہیں۔ یہ صحاحِ ستہ کے علاوہ دیگر معتبر کتب سے ماخوذ ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر مختلف علماء نے اس پر شروح لکھیں، مگر اردو زبان میں سب سے جامع، مفصل اور سہل شرح مراۃ المناجیح کی صورت میں سامنے آئی۔
علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی نے اسے اس انداز سے لکھا کہ:
یہ کتاب نہ صرف شرح حدیث ہے بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی مکمل دستاویز بھی ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی:
آپ کی تصانیف کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ آپ نے عوامی سطح پر دین کی تفہیم کے لیے آسان اسلوب اپنایا، مگر علمی گہرائی میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ مراۃ المناجیح ان کی علمی زندگی کا شاہکار ہے۔
مصنف نے اس شرح کے لکھنے میں درج ذیل مقاصد پیش نظر رکھے:
عام مسلمانوں کے لیے حدیث کو آسان بنانا
تاکہ وہ احادیث کو سمجھ کر اپنی زندگی سنوار سکیں۔
دین کی صحیح ترجمانی
مختلف گمراہ فرقوں اور گمراہ کن نظریات کی وجہ سے بہت سی احادیث کی غلط تشریحات ہونے لگیں، لہٰذا یہ شرح عقائدِ صحیحہ کی حفاظت کا ذریعہ بنی۔
جلالتِ مصطفیٰ ﷺ کا بیان
احادیثِ مبارکہ میں جابجا آقا ﷺ کی شانِ اقدس ذکر ہوتی ہے، اور مصنف نے بڑے ادب سے ان معارف کو بیان کیا۔
فقہی مسائل کی وضاحت
حنفی فقہ کی روشنی میں مسائل ذکر کیے، ساتھ ہی دیگر فقہاء کی آراء بھی بیان کیں۔
اخلاق و تصوف کی تعلیم
چونکہ مشکوٰۃ میں اخلاقی ابواب بھی ہیں، اس لیے مصنف نے روحانی تربیت کے نکات بھی شامل کیے۔
یہ شرح درج ذیل خصوصیات کی بنا پر منفرد مقام رکھتی ہے:
اگرچہ موضوعات علمی ہیں، مگر زبان انتہائی عام فہم ہے۔ ایک عام پڑھا لکھا مسلمان بھی اسے سہولت سے سمجھ سکتا ہے۔
مصنف صرف علمی تشریح نہیں کرتے بلکہ:
اس وجہ سے خطباء اور مبلغین میں یہ کتاب بے حد مقبول ہے۔
مراۃ المناجیح کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ:
ان کا قلم ادب و احترام سے معمور ہے۔
کتاب میں بارہا ایسے مقامات آتے ہیں جہاں عقائدِ باطلہ کی تردید کی گئی ہے، جیسے:
مصنف انتہائی مدلل انداز میں اہلِ سنت کے صحیح عقائد پیش کرتے ہیں۔
مراۃ المناجیح میں:
کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
جہاں مختلف ائمہ کے اقوال ہیں، وہاں دونوں طرف کے دلائل بھی ذکر کیے گئے ہیں۔
مفتی احمد یار خان ایک بلند پایہ صوفی بھی تھے۔ وہ احادیثِ مبارکہ میں موجود:
جیسے پہلوؤں کو دلکش انداز میں بیان کرتے ہیں۔
مصنف صرف تشریح نہیں کرتے بلکہ:
پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ خصوصیت مراۃ المناجیح کو ہر دور میں زندہ رکھتی ہے۔
شرح میں ہر جگہ حکیمانہ نکات، تشبیہات اور مثالیں ملتی ہیں جن سے:
مصنف نے جگہ جگہ:
سے استدلال کیا ہے۔
یہ شرح مشکوٰۃ المصابیح کی ترتیب کے مطابق ہے۔ چند نمایاں ابواب یہ ہیں:
اس میں عقائدِ اسلام، اللہ کی توحید، صفاتِ الٰہی، رسالت، آخرت، تقدیر وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔
مصنف ہر عقیدہ کو دلائل کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔
ان نکات پر خصوصی گفتگو ملتی ہے۔
اس میں:
کے مسائل تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
سب کچھ دلائل و حکمت کے ساتھ۔
یہاں حج کے ساتھ زیارتِ مدینہ کی فضیلت پر مصنف کا عاشقانہ قلم خوب چلتا ہے۔
جیسے موضوعات پر بےحد بصیرت افروز تشریحات شامل ہیں۔
دلوں کو نرم کرنے والے مباحث۔
کیونکہ اس میں ہزاروں موضوعات پر آسان اور مدلل مواد موجود ہے۔
مشکوٰۃ پڑھنے والے طلبہ اکثر مراۃ المناجیح سے مدد لیتے ہیں۔
سہل، سادہ، حکیمانہ اور دل کو چھو لینے والا اسلوب ہر پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
یہ کتاب گمراہ افکار کے مقابلے میں قلعہ ثابت ہوئی۔
مصنف نے ہر مقام پر نبی کریم ﷺ کی عظمت اور رحمت کو خوب اجاگر کیا۔
مراۃ المناجیح علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کا عظیم علمی و روحانی شاہکار ہے۔
یہ کتاب نہ صرف حدیث کی شرح ہے بلکہ:
کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے۔
ہر وہ مسلمان جو حدیثِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت رکھتا ہے، اسے ضرور اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ شرح دل کو روشن کرتی ہے، ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور عمل کی راہیں کھولتی ہے۔